سید موسی شبیری زنجانی
| کوائف | |
|---|---|
| مکمل نام | سید موسی شبیری زنجانی |
| تاریخ ولادت | 1928ء |
| تاریخ وفات | 21 ستمبر 2026ء |
| نامور اقرباء | سید احمد شبیری زنجانی |
| علمی معلومات | |
| مادر علمی | قم، نجف اشرف |
| اساتذہ | آیت اللہ خوئی، سید محسن الحکیم، سید عبد الہادی شیرازی۔ |
| تالیفات | تحقیق رجال نجاشی |
| خدمات | |
| سماجی | امام جماعت حرم حضرت معصومہ قم |
سید موسی شُبیری زَنجانی (1928-2026ء)، حوزہ علمیہ قم کے مراجع تقلید اور فقہ و اصول فقہ کے دروس خارج کے اساتید میں سے تھے۔ ان کا شمار ان سات فقہا میں ہوتا تھا جنہیں آیت اللہ اراکی کے انتقال کے بعد جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے جایز التقلید اور مرجعیت کی اہلیت کے حامل فقہاء کے طور پر پیش کیا تھا۔ انہوں نے قم اور نجف میں دینی تعلیم حاصل کی اور آیت اللہ بروجردی، آیت اللہ خوئی اور سید محمد داماد سے کسب فیض کیا۔ سید موسی شبیری زنجانی علم رجال میں خاص تبحر رکھتے تھے اور اس علم میں ان کا منفرد نظریہ یہ تھا کہ وہ خبر واحد کی حجیت کو نہیں مانتے تھے۔ ان کی بعض تالیفات میں رجال نجاشی پر ان کی تحقیق شائع ہوچکی ہے۔ اپنے والد سید احمد زنجانی کی طرح وہ بھی حرم حضرت معصومہ قم میں نماز فجر و مغربین کی امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
سید شبیری زنجانی ایک قلیل عرصہ بیمار رہنے کے بعد 21 ستمبر سنہ 2026ء کو وفات پاگئے۔
سوانح حیات
سید موسی شبیری زنجانی کی پیدائش 8 رمضان 1346 ھ مطابق 29 فروری 1928ء کو قم میں ہوئی۔ ان کے والد سید احمد شبیری زنجانی اپنے عہد کے علما میں سے تھے۔ انہوں نے 25 برس زنجان کے مدرسہ سید زنجان میں تحصیل و تدریس میں بسر کئے۔ 2 جمادی الثانی 1346ھ سے انہوں نے قم میں قیام اختیار کیا۔ ان کا شمار شیخ عبد الکریم حائری کے قریبی افراد میں ہوتا تھا۔[1]
درس و تدریس
سید شبیری زنجانی نے سنہ 1359 یا 1360 ھ میں دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ حوزہ کے سطوح کے دورس کو انہوں نے تین سے چار سال میں مکمل کیا۔ اس کے بعد وہ سید صدر الدین صدر کے درس میں شرکت کرنے لگے۔ اس درس میں شرکت کرنے والوں میں وہ سب سے کم عمر طالب علم تھے۔[2]
انہوں نے آیت اللہ بروجردی کے فقہ و اصول فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور کتاب الغصب، کتاب الاجارہ و کتاب الصلاۃ میں ان سے کسب فیض کیا۔ اسی طرح سے انہوں نے 21 برس کی عمر سید محمد داماد کے فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور ان سے اصول فقہ کا ایک مکمل دورہ پڑھا۔[3] سید موسی صدر اور شہید بہشتی کی طرح آپ بھی سید محمد داماد کے تلامذہ میں سے ہیں۔[4]
نجف کا سفر
موسی شبیری زنجانی نے سنہ 1373 اور 1374 ھ میں دو بار حوزہ علمیہ نجف کا رخ کیا اور وہاں سید عبد الہادی شیرازی اور سید محسن حکیم کے فقہ کے درس خارج میں شرکت کی نیز آیت اللہ خوئی کے فقہ و اصول فقہ کے درس خارج میں بھی شرکت کی۔[5]
درس خارج کی تدریس کا آغاز
سید موسی شبیری سنہ 1961ء سے ہی مدرسہ حقانی قم کے اساتذہ میں سے تھے۔[6] انہوں نے فقہ میں کتاب الحج کے درس خارج کی تدریس کا سلسلہ 1968ء میں اس وقت شروع کیا جب ان کے استاد آیت اللہ محقق داماد حیات تھے اور یہ سلسلہ درس 15 برس تک چلتا رہا۔ ان کے علم اصول کا درس خارج بھی مدتوں درس اصلی کے طور پر جاری رہا لیکن اسے تکمیلی مرحلے تک نہیں پہنچا سکے البتہ وہ اصول فقہ سے متعلق نکات کو فقہ کے درس خارج کے ضمن میں بیان کر دیتے رہے۔[7]
شمہور شاگرد
مرجعیت
آیت اللہ شبیری زنجانی کا شمار ان سات فقہا میں سے ہوتا تھا جن کا اعلان جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی طرف سے آیت اللہ اراکی کے انتقال کے بعد سنہ 1994ء میں کیا گیا اور جس میں انہیں بھی جایز التقلید قرار دیے گئے تھے۔[11]
خاص نظریات
سید شبیری زنجانی خبر واحد کی حجیت کو نہیں مانتے تھے۔ سید محسن حکیم و سید ابو القاسم خوئی کے آراء اور نظریات پر خاص توجہ دیتے تھے۔ انسداد باب علم کا نظریہ، فقہا کے لئے امور حکومتی میں وسیع اختیارات حاصل نہ ہونا وغیرہ ان کے دیگر فقہی نظریات میں شامل ہیں۔[12]
تالیفات
- تحقیق رجال نجاشی؛ رجال نجاشی ان کی تحقیق کے ساتھ 1416 ھ میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے انتشارات کی طرف سے شائع ہوئی۔[13] اس کتاب کی تحقیق رجال نجاشی کے 14 معتبر نسخوں سے استفادہ کرتے ہوئے انجام دی گئی ہے۔[14]
- آشنائے حق پر تعلیقہ؛ آقا محمد بید آبادی کے آثار و احوال، آشنائے حق نامی فارسی کتاب میں علی صدرایی خوئی نے قلم بند کئے ہیں اور آیت اللہ شبیری زنجانی نے اس پر تعلیقات تحریر کئے ہیں۔ یہ کتاب 2012ء میں انتشارات خویی کی جانب سے طبع ہوئی ہے۔[15] جبکہ اصل کتاب سنہ 2000ء میں نشر نہاوندی نے شائع کی ہے۔[16]
- جرعہ ای از دریا؛ اس کتاب میں ان کے بعض غیر مطبوعہ و بعض محدود مطبوعہ آثار، طریقیات نامی فصل کے ہمراہ، جن میں ان کے گھر سے حرم حضرت معصومہ (ع) کے راستے میں بیان ہونے والے بعض اقوال شامل ہیں، شائع ہوئے ہیں۔ اس کتاب کی پہلی فصل میں فارسی کی 14 کتب، مقالات، انٹرویوز اور فارسی کتب پر تعلیقات شامل ہیں۔ اس کی دوسری فصل میں عربی کی آٹھ کتب ہیں جن میں سے زیادہ تر تعلیقات ہیں۔ اس کتاب کی آخری حصہ میں طریقیات ہیں جن میں علمی، تاریخی و اخلاقی نکات ذکر کئے گئے ہیں اور اس میں علما میں سے 40 شخصیات کی سوانح حیات اور ان کی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے اور موسسہ کتاب شناسی شیعہ کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔[17] یہ تین جلدی کتاب سنہ 2009ء میں موسسہ کتاب شناسی شیعہ قم کی جانب سے فارسی زبان میں طبع ہوئی ہے۔[18]
علمی اور دینی فعالیتیں
- مدرسہ فقہی امام محمد باقر (ع) کی تاسیس؛ یہ مدرسہ سنہ 2001ء میں بنایا گیا۔ اس کی تاسیس کا مقصد فقہی مطالعات و خوش استعداد فقہا کی تربیت و پرورش کرنا تھا۔[19] اس کا تعلیمی سلسلہ حوزہ علمیہ کے پایہ 7 سے شروع ہوتا ہے اور 12 سال میں مکمل ہوتا ہے۔[20]
- مرکز فقہی امام محمد باقر (ع)؛ یہ مرکز سید احمد شبیری زنجانی کی تالیفات کے احیا و سید موسی شبیری زنجانی کے آثار کی نشر و اشاعت کی غرض سے اپریل 2012ء میں تاسیس کیا گیا۔ اس کی علمی فعالیت کا دائرہ علوم فقہ، اصول فقہ، رجال و فقہ الحدیث ہے۔ شرعی سوالات کے جوابات، آیت اللہ شبیری زنجانی کے دروس خارج کی تدوین و تنظیم، حوزہ علمیہ کے نصاب و متون درسی کی تدوین اس مرکز انجام پانے والے امور میں شامل ہیں۔[21]
سید شبیری زنجانی نے شاہ ایران کے خلاف جدوجہد کے دور میں حکومتِ پہلوی کے خلاف جاری ہونے والے بعض اعلانات اور بیانات پر دستخط کیے تھے۔[22] اپنے والد آیت اللہ سید احمد شبیری زنجانی کے انتقال کے بعد[23] آستانہ حضرت فاطمہ معصومہؑ میں نمازِ جماعت کی امامت کرتے رہے اور کچھ عرصہ مدرسۂ فیضیہ میں بھی نمازِ جماعت پڑھاتے رہے۔سانچہ:حوالہ درکار ہے
حوالہ جات
- ↑ «ولادت» www.zanjani.net
- ↑ «آغاز دروس معظّم لہ»www.zanjani.net
- ↑ «اساتید اصلی معظّم لہ در دروس خارج»www.zanjani.net
- ↑ فتحی، «از نجفآباد تا زنجان»، ص5۔
- ↑ «سفر معظّمٌ لہ بہ نجف اشرف».www.zanjani.net
- ↑ فتحی، «از نجفآباد تا زنجان». ص5۔
- ↑ «دروس خارج معظم لہ».www.zanjani.net
- ↑ صالح، جامعه مدرسین حوزه علمیه قم، ۱۳۸۵شمسی، ج۳، ص۴۰۔
- ↑ «شبزندهدار کیست؟»، خبرگزاری فارس۔
- ↑ زندگینامه علامه سید جعفر مرتضی عاملی، خبرگزاری ابنا۔
- ↑ «1373: سال معرفی مراجع تقلید شیعیان».www.zanjani.net
- ↑ فتحی، «از نجفآباد تا زنجان». ص5۔
- ↑ رجوع کریں: «رجال نجاشی».www.zanjani.net
- ↑ جاودان، «رجال نجاشی؛ سیر رجالنویسی متقدمان»، ص16۔
- ↑ «آشنای حق: درباره آقا محمد بیدآبادی».www.zanjani.net
- ↑ رجوع کریں: «آشنای حق».www.zanjani.net
- ↑ «جرعہ ای از دریا».www.zanjani.net
- ↑ «جرعہ ای از دریا».www.zanjani.net
- ↑ «صفحہ معرفی مختصر مدرسہ».www.zanjani.net
- ↑ «نظام آموزشی مدرسہ».www.zanjani.net
- ↑ «درباره ما».www.zanjani.net
- ↑ فتحی، «از نجفآباد تا زنجان»، ص۵۔
- ↑ فتحی، «از نجفآباد تا زنجان»، ص۵۔
مآخذ
- «1373: سال معرفی مراجع تقلید شیعیان»، سایت تاریخ ایرانی، تاریخ درج مطلب: 11 فروردین 1393ش، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- «آشنای حق: اندیشہ و رفتارہای سلوکی آقا محمد بید آبادی»، سایت دار آخرت، تاریخ درج مطلب: 14 مرداد 1391ش، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- «آشنای حق: شرح احوال و افکار آقا محمد بید آبادی»، سایت خانہ کتاب، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- «آغاز دروس معظم لہ»، سایت اطلاع رسانی آیت الله شبیری زنجانی، تاریخ درج مطلب: 7 تیر 1393، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- «اساتید اصلی معظم لہ در دروس خارج»، سایت اطلاع رسانی آیت الله شبیری زنجانی، تاریخ درج مطلب: 7 تیر 1393، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- افشار، صبا، «جرعہ ای از دریا»، سایت موسسہ کتاب شناسی شیعہ، تاریخ درج مطلب: 20 آبان 1392ش، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- جاودان، محمد، «رجال نجاشی؛ سیر رجال نویسی متقدمان»، در مجلہ کیہان فرہنگی، ش37، ص16.
- «جرعہ ای از دریا»، سایت بنیاد محقق طباطبایی، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1396ش.
- «سفر معظم لہ بہ نجف اشرف»، سایت اطلاع رسانی آیت الله شبیری زنجانی، تاریخ درج مطلب: 7 تیر 1393، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- فتحی، علی اشرف، «از نجف آباد تا زنجان»، در نشریہ بہار زنجان، ش308، 12 دی 1388ش، ص5.
- «درباره ما»، سایت مرکز فقہی امام محمد باقر(ع)، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- «معرفی مختصر مدرسہ»، سایت مدرسہ فقہی امام محمد باقر(ع)، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، تحقیق سید موسی شبیری زنجانی، قم، مؤسسہ النشر الإسلامی، [1407ق].
- «نظام آموزشی مدرسہ»، سایت مدرسہ فقہی امام محمد باقر(ع)، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
- «ولادت»، سایت اطلاع رسانی آیت الله شبیری زنجانی، تاریخ درج مطلب: 7 تیر 1393، تاریخ بازدید: 14 فروردین 1397ش.
